حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ
رسول اللہ ﷺ کے اولین جانشین اورخلیفۂ اول کو تاریخ میں ’’ابوبکرصدیق‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، ابوبکر ان کی کنیت تھی، جبکہ ’’صدیق‘‘ لقب تھا، اصل نام ’’عبداللہ‘‘ تھا، اسلام سے قبل ان کا نام ’’عبدالکعبہ‘‘ تھا، قبولِ اسلام کے بعدخود رسول اللہ ﷺ نے ان کا نام عبدالکعبہ سے تبدیل کر کے ’’عبداللہ‘‘ رکھ دیا تھا۔
بچپن سے ہی ’’عتیق‘‘ کے لقب سے بھی مشہور تھے، جبکہ قبولِ اسلام کے بعد مزید یہ کہ ایک موقع پر رسول اللہ ﷺ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے یہ خوشخبری سنائی تھی : أنتَ عَتِیْقُ اللّہِ مِنَ النَّارِ (۱) یعنی ’’آپ اللہ کی طرف سے جہنم کی آگ سے آزادکردہ ہیں ‘‘۔
البتہ بعد میں ’’عتیق‘‘ کی بجائے ہمیشہ کیلئے ’’صدیق‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ مکی تھے، قُرَشی تھے، مہاجر تھے، قبیلۂ قریش کے معزز خاندان ’’بنو تَیم‘‘ سے ان کا تعلق تھا، جو کہ مکہ کے مشہور محلہ ’’مسفلہ‘‘ میں آباد تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ’’عشرہ مبشرہ‘‘ یعنی ان دس خوش نصیب ترین افرادمیں سے تھے جنہیں رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایا تھا۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے والد کا نام ’’ابوقحافہ‘‘ جبکہ والدہ کا نام ’’سلمیٰ‘‘ تھا، یہ دونوں باہم چچازاد تھے، لہٰذا والد اور والدہ دونوں ہی کی طرف سے آپؓ کا سلسلۂ نسب ساتویں پشت (مُرّہ بن کعب) پر رسول اللہ ﷺ کے سلسلۂ نسب سے جا ملتا ہے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے انتہائی مقرب اورخاص ترین ساتھی ہونے کے علاوہ مزید یہ شرف بھی حاصل تھا کہ آپؓ رسول اللہ ﷺ کے سسربھی تھے، اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپؓ ہی کی صاحبزادی تھیں۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کو یہ خاص شرف اور اعزاز بھی حاصل تھا کہ ان کے خاندان میں مسلسل چار نسلوں کورسول اللہ ﷺ کی صحبت و معیت کا شرف نصیب ہوا، چنانچہ ان کے والدین بھی صحابی تھے، یہ خودبھی صحابی تھے، ان کے صاحبزادے عبداللہ اور عبدالرحمن ٗ نیز صاحبزادیاں عائشہ اوراسماء … اور پھر نواسے عبداللہ بن زبیر (رضی اللہ عنہم اجمعین) سبھی رسول اللہ ﷺ کے صحابی تھے۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ولادت مکہ میں رسول اللہ ﷺ کی ولادت باسعادت کے تقریباً ڈھائی سال بعد ٗاور پھر وفات مدینہ میں آپ ﷺ کی وفات کے تقریباً ڈھائی سال بعد ہوئی۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جاہلیت اور پھر اسلام دونوں ہی زمانوں میں نہایت باوقار اوروضع دار رہے، تمدنی ومعاشرتی زندگی میں انہیں ہمیشہ ممتاز مقام حاصل رہا، ظہورِ اسلام سے قبل بھی اُس معاشرے میں انہیں ہمیشہ انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، سب اہلِ مکہ اپنے اختلافات اورخاندانی جھگڑوں میں انہیں اپنا ’’ثالث‘‘ مقرر کرتے ، اورپھر ان کے ہرفیصلے کو بلا چون وچرا تسلیم کیا کرتے تھے۔
رسول اللہ ﷺ کو جب اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی طرف سے نبوت عطاء کی گئی اورآپؐ نے اعلانِ نبوت فرمایا…تب آپؐ کی اہلیہ محترمہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاٗ و دیگر افرادِ خانہ کے بعد سب سے پہلے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے دینِ اسلام قبول کیا، آپ ؐ کی مکمل تصدیق کی، اوراس موقع پر کوئی دلیل یامعجزہ نہیں مانگا۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا ظہورِ اسلام سے قبل ہی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بہت گہرا تعلق تھا، دونوں میں بہت قربتیں تھیں ، اور ایک دوسرے کے گھر آمدورفت کا سلسلہ رہتا تھا۔
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی ذاتی ملکیت میں قبولِ اسلام کے وقت نقد چالیس ہزار درہم تھے ،قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے اپنی یہ کل پونجی رسول اللہ ﷺ کی خدمت اوردینِ اسلام کی نشرواشاعت میں صرف کر دی۔
دینِ اسلام کے ابتدائی دور میں متعدد ایسے افراد جو کہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے ،اور دینِ اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے اپنے مشرک آقاؤں کے ہاتھوں بدترین عذاب اور سختیاں جھیلنے پرمجبور تھے ،انہیں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ نے اپنی جیبِ خاص سے نقد رقم ادا کر کے ان کے مشرک آقاؤں سے خرید لیا،اورپھر اللہ کی خوشنودی کی خاطر انہیں آزاد کر دیا…قرآن کریم کی درجِ ذیل آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیاہے:
{وَسَیُجَنَّبُھَا الأَتْقَیٰ الَّذِي یُؤتِي مَالَہٗ یَتَزَکَّیٰ وَمَا لِأَحَدٍ عِندَہٗ مِنْ نِعمَۃٍ تُجْزَیٰ اِلَّاابْتِغٓائَ وَجْہِ رَبِّہٖ الأَعلَیٰ وَلَسَوفَ یَرْضَیٰ}
(۱) ترجمہ:(اور ایساشخص اُس [جہنم] سے دور رکھا جائے گا جوبڑا پرہیزگار ہو گا، جو پاکی حاصل کرنے کیلئے اپنا مال دیتا ہے،کسی کا اُس پر کوئی احسان نہیں کہ جس کا بدلہ دیا جا رہا ہو، بلکہ صرف اپنے پروردگار بزرگ وبلند کی رضا چاہنے کیلئے، یقینا وہ [اللہ] عنقریب راضی ہوجائے گا) ۔
مفسرین کے بقول اس آیت کامفہوم اگرچہ عام ہے ،یعنی جوکوئی بھی محض اللہ کی رضامندی وخوشنودی کی خاطر اپنا مال خرچ کرے گا وہ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے گا…البتہ بطور خاص اس سے حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ بھی مقصود ہے۔(۱)
حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کا اُس معاشرے میں کافی اثرورسوخ تھا اورحلقۂ احباب بھی کافی وسیع تھا، لہٰذا انہیں اللہ کی طرف سے ’’ہدایت ‘ ‘کی شکل میں جو خیر نصیب ہوئی تھی اسے انہوں نے خود اپنی ذات تک محدود رکھنے کی بجائے اس اثرورسوخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسروں تک پہنچانے کی کوشش بھی نہایت سرگرمی اور جذبے کے ساتھ شروع کر دی ، چنانچہ ان کی ان دعوتی وتبلیغی کوششوں کے نتیجے میں اُس معاشرے کے متعدد ایسے بڑے بڑے اوربااثر افرادمشرف باسلام ہو گئے جو آگے چل کردینِ اسلام کے بڑے علمبردار اور اس قافلۂ توحیدکے سپہ سالار ثابت ہوئے… دینِ اسلام کی نشرواشاعت اورسربلندی کی خاطر جنہوں نے تاریخی خدمات اورناقابلِ فراموش کارنامے انجام دئیے ، ’’عشرہ مبشرہ ‘‘ یعنی وہ دس خوش نصیب ترین حضرات جنہیں اس دنیا کی زندگی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے جنت کی خوشخبری سے شادکام فرمایا تھا ان میں سے پانچ حضرات نے آپؓ کی دعوت اور تبلیغی کوششوں کے نتیجے میں ہی دینِ برحق قبول کیا تھا (۲)

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں